10th JULY Monday Supreme Court of PAKISTAN Panama Case Decision Must Read

10th JULY Monday Supreme Court of PAKISTAN Panama Case Decision Must Read

میاں نواز شریف تا حیات نا اہل، منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ضبط
مریم نواز دس سال تک عوامی عہدوں کے لیے نا اہل
حسن اور حسین نواز کی کم عمری میں بنائی گئی جائیدادیں بحق سرکار ضبط

حدیبیہ پیپرز کیس ری اوپن کیا جا رہا ہے ، اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کا وہ بنچ کرے گا جس کی تشکیل چیف جسٹس آف پاکستان کریں گے۔چیئرمین نیب اور چیئرمین ایف بی آر کو فوری طور پر نوکریوں سے برخاست کیا جاتا ہے، ان کے تمام اثاثوں کی سکروٹنی کی جائے گی۔
سٹیٹ بینک سات روز کے اندر1980 کے بعد معاف کرائے تمام قرض کی لسٹ شائع کرے، سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ تیس ر وز کے اندر اس لسٹ کی سکروٹنی کرے اور تمام سیاسی طور پر معاف کرائے گئے قرضوں کی لسٹ مرتب کرے،ان افراد سے یہ قرض واپس لینے کے لیے انہیں ایک ماہ کی مہلت دی جائے ، اگر وہ واپس نہیں کرتے تو ان کی جائیدادیں ضبط کر لی جائیں ۔یہ دونوں لسٹیں سٹیٹ بینک کی ویب سائٹس پر پبلش کی جائیں ۔قرضوں کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے تمام ادارے اس بنچ کے فیصلوں اور احکامات کی پابندی کریں۔حاصل ہونے والی تمام رقوم پاکستان کے مہنگے ترین قرضوں کی واپسی کے لیے استعمال کیے جائیں اور اس سلسلہ میں وزارت خزانہ پاکستان کے حاصل کیے گئے قرضوں کی لسٹ ہر ماہ جمع کرانے کی پابند ہو گی۔
میگا کرپشن سیکنڈلز پر ایک خصوصی بنچ جو کہ ہر ہائی کورٹ سے ایک ایک جج پر مشتمل ہو گا ان کیسوں کی روزانہ بنیاد پر سماعت کرے گا اور جب تک یہ کیس موجود ہیں یہ بنچ موجود رہے گا ۔ بیرون ممالک میں موجود پاکستانیوں کی جائیدادوں،سرمائے کا کھوج لگانے کے لیے آئی ایس آئی، ایم آئی ، سٹیٹ بینک ، ایف آئی اے، ایف بی آر،نیب ،میڈیا،بین الاقوامی ماہرین قوانین، پاکستان بارکونسل پر مشتمل ایک کمیشن بنایا جائے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج کرے گا ، اس کمیشن کو اندرون ملک اور بیرون ممالک ہر طرح کے اختیارات حاصل ہوں گے، یہ کمیشن بیرون ممالک میں موجود جائیداوں کا کھوج لگانے ،ان کے خریدنے کے لیے بھیجی گئی رقوم کے قانونی اور غیر قانونی ہونے اور پھر اس کالے دھن کو واپس لانے کے لیے مکمل بااختیار ہو گا۔
یہ کمیشن اپنا تمام ریکارڈ ہفتہ وار بنیاد پر اپنی ویب سائٹ پر ڈالے گا اور ہر ہفتے یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں بھی جمع کرائی جائے۔پاکستان میں موجود اہم عہدوں پر موجود اراکین کو اپنے آپ کو کاروبار سے علیحدہ کرنا ہو گا، اس کے لیے انہیں چھ ماہ کا وقت دیا جاتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 62اور 63پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد مشکل ہے ناممکن نہیں ، اس کے لیے الیکشن کمیشن سکروٹنی اور جانچ پڑتال کا اپنا نظام وضح کرے۔
مجھے یہ فیصلہ میری گلی کے موچی، کمہار، نائی نے اس وقت پڑھ کر سنایا تھا جب محترم جج صاحبان نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ بیس سال تک یاد رکھا جائے گا اور یہ تاریخی فیصلہ ہوگا۔پاکستانی عوام اس فیصلے کا انتظار کررہے تھے لیکن افسوس تاریخی فیصلے کا اعلان کرنے والے خود تاریخ کا حصہ بن گئے ۔ نجانے کب تاریخ اپنا آپ دہرائے گی۔
کبھی نہ کبھی میری گلی کے موچی، کمہار، نائی اور درکھان کا فیصلہ بھی آئے گا اور اس کبھی میں اب بہت دیر نہیں ۔

News Reporter